Islamic Education

Wednesday, October 6, 2021

The Consequences of Adultery and Fornication


Muslim women are the purest in the world
Muslim women are the purest in the world


اسلام میں زنا و بدکاری کی سخت الفاظ کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں اس کے دردناک عزاب و انجام سے مرد و عورت دونوں کو خبردار کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ؛ 
ترجمہ: ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کو بھی محفوظ رکھیں، یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ ہے، بیشک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
ترجمہ: اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں!
یہ احکامات تو صرف مسلمان کو سمجھ میں آ سکتے ہیں جبکہ غیر مسلم اقوام اپنے خود ساختہ خداؤں کی نسبت سائنس کو ترجیح دیتے ہیں لیکن دین اسلام کی سربلندی اور سچائی دیکھیے کہ سائنس بھی اسلام کے احکامات کی تائید پر مجبور ہو گئی ..
 ایک ماہر جنین یہودی ( جو دینی عالم بھی تھا ) کھلے طور پر کہتا ہے کہ روئے زمین پر مسلم خاتون سے زیادہ پاک باز اور صاف ستھری کسی بھی مذھب کی خاتون نہیں ہے پورا واقعہ یوں ہے کہ البرٹ آئینسٹاین انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایک ماہر جنین یہودی پیشوارابرٹ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا جس کا واحد سبب بنا قرآن میں مذکور مطلقہ کی عدت کے حکم سے واقفیت اور عدت کیلئے تین مہینے کی تحدید کے پیچھے کارفرما حکمت سے شناسائی اللہ کا فرمان ہے . 
ترجمہ : مطلقات اپنے آپکو تین حیض تک روکے رکھیں (البقرہ 228)
 اس آیت نے ایک حیرت انگیز جدید علم ڈی این اے کے انکشاف کی راہ ہموار کی اور یہ پتا چلا کہ مرد کی منی میں پروٹین دوسرے مرد کے بالمقابل 62 فیصد مختلف ہوا کرتی ہے اور عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند ہے جب کوئی مرد ہم بستری کرتا ہے تو عورت کا جسم مرد کے تمام بیکٹریاز جذب ومحفوظ کر لیتا ہے ۔ اس لئے طلاق کے فوراً بعد اگر عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرلے یا پھر بیک وقت کئی لوگوں سے جسمانی تعلقات استوار کرلے تو اس کے بدن میں کئی   کئی ڈی این اے جمع ہو جاتے ہیں جو خطرناک وائرس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور جسم کے اندر جان لیوا امراض پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں ۔
 سائنس نے تحقیق کی کہ طلاق کے بعد ایک حیض گزرنے سے 32 سے 35 فیصد تک پروٹین ختم ہو جاتی ہےاور دوسرا حیض آنے 72 تک آدمی کا سے ڈی این اے زائل ہو جاتا ہےاور تیسرے حیض میں % 99.9 کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور پھر رحم سابقہ ڈی این اے سے پاک ہو جاتا ہے۔اور بغیر کسی سائڈ افیکٹ و نقصان کے نیا ڈی این اے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ۔
 ایک طوائف کئی لوگوں سے تعلقات بناتی ہے جس کے سبب اس کے رحم میں مختلف مردوں کے بیکٹریاز چلے جاتے ہیں اور جسم میں مختلف ڈی این اے جمع ہو جاتے ہیں۔اور اسکے نتیجے میں وہ مہلک امراض کا شکار بن جاتی ہے اور رہی بات متوفی کی عدت تو اس کی عدت طلاق شدہ عورت سے زیادہ ہے کیونکہ غم و حزن کی بناء پر سابقہ ڈی این اے جلدی ختم نہیں ہوتا اور اسے ختم ہونے کے لئے پہلے سے زیادہ وقت درکار ہے اور اسی کی رعایت کرتے ہوئے ۔ ایسی عورتوں کےلئے چار مہینے اور دس دن کی عدت رکھی گئی ہے۔۔فر مان الہی ہے .
 اور تم میں سے جس کی وفات ہو جائے اور اپنی بیویاں چھوڑے تو چاہیے کہ وہ چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں ‘‘(البقرہ 238) 
اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ماہر ڈاکٹر نے امریکہ کے مختلف محلوں میں تحقیق کی ۔ دو ۔ ایک محلہ جہاں افریقن نژاد مسلم رھتے ہیں وہاں کی تمام عورتوں کے جنین میں صرف ایک ہی شوہر کا ڈی این اے پایا گیا جبکہ دوسرا محلہ جہاں اصل امریکن آزاد عورتیں رھتی ہیں ان کے جنین میں ایک سے زائد دو تین لوگوں تک کے ڈی این اے پائے گئے ۔۔ 
ڈاکٹر نے خود اپنی بیوی کا خون ٹیسٹ کیا تو چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی کہ اس کی بیوی میں تین الگ الگ لوگوں کے ڈی این اے پائے گئے ۔  جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کی بیوی اسے دھوکہ دے رہی تھی اور یہ کہ اس کے تین بچوں میں سے صرف ایک اس کا اپنا بچہ ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر پوری طرح قائل ہوگیا کہ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جو عورتوں کی حفاظت اور سماج کی ہم آہنگی کی ضمانت دیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ مسلم عورتیں دنیا کی سب سے صاف ستهری پاک دامن وپاک باز ہوتی ہیں ۔

No comments:

Post a Comment